حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے مدیر آیت اللہ علی رضا اعرافی نے آج صبح قم میں مدرسہ علمیہ سیدالشہداء (ع) کا دورہ کیا۔ اس دورے کے آغاز میں اس مدرسے کے مدیر اور مسئولین نے تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی۔
اس موقع پر مدیر حوزہ علمیہ نے اساتذہ اور طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا: مدرسہ سیدالشہداء (ع) حوزہ کے بہترین اور کامیاب مدارس میں سے ایک ہے۔ جسے حوزہ کی تشخیص میں شایستہ اور قابلِ تحسین مدارس میں شمار کیا گیا ہے۔ انہوں نے طلباء سے صمیمیت کے ساتھ اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا: یہ طلباء ان شاء اللہ حوزہ علمیہ کے مستقبل کے ستون اور ایران و جہانِ عالم میں معارفِ الٰہی کے مبلغ ہوں گے۔

خطبہ فدکیہ کی اہمیت
آیت اللہ اعرافی نے خطبہ فدکیہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو اسلام کی تاریخ کے معتبر اور اہم مصادر میں سے قرار دیا اور کہا: یہ خطبہ اہل سنت اور شیعہ دونوں منابع میں منعکس ہوا ہے۔
انہوں نے کتاب "طبقات النساء" کا ذکر کیا جو اہل سنت کے ایک بزرگ کی تصنیف ہے اور جس میں خطبہ فدکیہ کا خوبصورت متن موجود ہے۔
مدیر حوزہ علمیہ نے کہا: یہ خطبہ شیعہ گھروں میں فکری و اعتقادی میراث کے طور پر نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے جو اس کی بنیادی اعتبار کوبھی ظاہر کرتا ہے۔
خطبہ فدکیہ کی چھ نمایاں خصوصیات
آیت اللہ اعرافی نے خطبہ فدکیہ کی چھ نمایاں خصوصیات بیان کیں:
1. فصاحت و بلاغت کی انتہا: یہ خطبہ عربی ادب کے ممتاز ترین متون میں شمار ہوتا ہے اور نہج البلاغہ اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کے ساتھ کھڑا ہے۔
2. معارف کی گہرائی: حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نے ہر موضوع میں گہرے ترین معارف پیش کیے ہیں، جو کلامی، اعتقادی، فقہی اور حقوقی مسائل پر محیط ہیں۔
3. جامعیت: یہ خطبہ اسلامی فکری نظام کا جامع تصور پیش کرتا ہے۔

4. تاریخی و تحولی مقام: یہ خطبہ اسلامی تاریخ کے حساس ترین دور میں تحول کا منشور ہے۔
5. امامت کی حفاظت اور رسالت کا تسلسل: یہ خطبہ امامت کی صیانت اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے تسلسل کا منشور ہے۔
6. سماجی، نفسیاتی اور سیاسی تجزیہ: یہ خطبہ مدینہ کی سماجی حالتوں کا گہرا تجزیہ پیش کرتا ہے۔
خواتینِ اسلام کا کردار
انہوں نے تاریخِ اسلام کی تین عظیم خواتین "حضرت خدیجہ کبریٰ (س)، حضرت فاطمہ زہراء (س)اور حضرت زینب کبریٰ (س)" کو تقدیر ساز مقاطع کی قائدین قرار دیا جنہوں نے بحرانی حالات میں بھی حق کا راستہ زندہ رکھا۔
طلباء کی عالمی رسالت و ذمہ داری
آیت اللہ اعرافی نے کہا: طلباء کی رسالت و ذمہ داری کسی خاص علاقہ تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے سات ارب انسان اور آنے والی نسلیں ان کے پیغام کے مخاطب ہیں۔
انہوں نے کہا: اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے علم، اخلاق، بصیرت، معرفت، بلند نگاہ، دلِ دریا اور پختہ اعتقادات ضروری ہیں۔
مدیر حوزہ علمیہ نے طلباء کو خود اعتمادی اور ذمہ داری پذیری کی تلقین کرتے ہوئے کہا: وہ خود اپنی شخصیت کے معمار اور معاشرے کے مستقبل ساز بنیں۔

نعمت کا اسلامی تصور
انہوں نے خطبہ فدکیہ کے ابتدائی دو جملوں کی تشریح کرتے ہوئے نعمت کے بارے میں اسلام کے دس نکات بیان کیے جن میں نعمت کی وسعت، ابتدائی اور بلا استحقاق ہونا، کثرت و فراوانی، نعمت کا تسلسل، بے کرانی و نامحدود ہونا، انسان کی نعمت کو شمار کرنے اور اس کے جبران سے ناتوانی، شکر سے نعمت میں اضافہ، حمد و توحید و رسالت و ولایت سے گہرا تعلق اور خدمتِ اجتماعی میں تبدیل ہونا شامل ہیں۔
آیتاللہ اعرافی نے حوزات علمیہ کی تہذیبی حیثیت اور مقام پر زور دیتے ہوئے کہا: حوزہ علمیہ کی پہچان اس راستے اور اس رسالت میں بیان کی جاتی ہے جو ہمیں حوزہ سے حاصل کر کے انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں رائج کرنی چاہیے۔ آج انسانی معاشرے ہر زمانے سے زیادہ الہی حقائق بیان کیے جانے کے محتاج ہیں تاکہ یہ حقائق دنیا میں پیش ہوں اور انسانوں کی زندگی کو جان بخشیں۔
فقہاء گارڈین کونسل کے اس رکن نے مزید کہا: طالب علم اور حوزہ علمیہ کو معاشرتی زندگی میں موجود ہونا چاہیے اور انسانی زندگی کو ہویت اور پہطان بخشنی چاہیے۔ حوزہ کی رسالت و ذمہ داری یہ ہے کہ وہ توحید، رسالت، ولایت اور دین کی عبادتی اور روحانی جہتوں کی حقیقت کو انسان کی زندگی کے تمام تغیرات میں داخل کرے کیونکہ اگر یہ حقائق انسانی زندگی میں موجود نہ ہوں تو اس جہان کی تمام سہولیات اور نعمتیں، باوجود ظاہری قدر و اہمیت کے، حقیقت اور حقیقی معنی سے خالی ہوں گی۔
آیتاللہ اعرافی نے کہا: طالب علم کو جاننا چاہیے کہ اس نے ایسے راستے پر قدم رکھا ہے جو خداوند متعال کی طرف سے انسان کو عطا کردہ شریف ترین علوم اور بہترین راستوں میں سے ہے۔ اس الہی فرصت اور سرمائے کی قدر کرنی چاہیے اور علمی، اخلاقی اور روحانی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے اپنی پوری توانائی سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔













آپ کا تبصرہ